7 اشعار

سب توڑ کے بندھن دنیا کے میں پیار کی جوت جگاؤں گی

Sab tod ke bandhan duniya ke main pyar ki jot jagaungi

سب توڑ کے بندھن دنیا کے میں پیار کی جوت جگاؤں گی

«سب توڑ کے بندھن دنیا کے میں پیار کی جوت جگاؤں گی» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نہ کوئی حرف ملامت نہ کوئی کلمۂ خیر شبنم شکیل» میں 16 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

سب توڑ کے بندھن دنیا کے میں پیار کی جوت جگاؤں گیاب مایا جال سے نکلوں گی اور جوگنیا کہلاؤں گی

تو نے تو پریم کی کٹیا کو پل بھر میں جلا کر راکھ کیااب میری چتا تیار کرو میں ساتھ ستی ہو جاؤں گی

یہ دنیا لوبھن ناری ہے ہنس ہنس کر سب سے کہتی ہےتم سونے کے بن کر آؤ میں جے مالا پہناؤں گی

تم من دھن پریم کے مندر پر میں وار کے باہر بیٹھی ہوںاک سانس کی دوری اٹکی ہے اب اس کی بھینٹ چڑھاؤں گی

یہ میلی اوڑھنی اوڑھوں گی وہ آئے گا تو دھو لوں گیوہ کھیلے دھن میں دولت میں اب میں اس دوار نہ جاؤں گی

اک مورکھ سے بیوپاری نے بن مول مرا من بیچ دیامیں نگری نگری گھوموں گی اور پریم کا مول چکاؤں گی

نینوں کا کجرا بھیگ گیا بینی کا گجرا ٹوٹ گیااب بھور بھئے گھر آیا تو بن کر میں سو جاؤں گی

— شبنم شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں