6 اشعار

ہاتھ نہ آئی دنیا بھی اور عشق میں بھی گمنام رہے

Haath na aayi duniya bhi aur ishq mein bhi gumnaam rahe

ہاتھ نہ آئی دنیا بھی اور عشق میں بھی گمنام رہے

«ہاتھ نہ آئی دنیا بھی اور عشق میں بھی گمنام رہے» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

ہاتھ نہ آئی دنیا بھی اور عشق میں بھی گمنام رہےسوچ کے اب شرمندہ ہیں کیوں دونوں میں ناکام رہے

اب تک اس کے دم سے اپنی خوش فہمی تو قائم ہےاچھا ہے جو بات میں اس کی تھوڑا سا ابہام رہے

ہم نے بھی کچھ نام کیا تھا ہم کو بھی اعزاز ملےعشق میں ہم بھی اک مدت تک مورد صد دشنام رہے

میرے پاس تو اپنے لیے بھی اکثر کوئی وقت نہ تھاہاں جو فراغت کے لمحے تھے تیری یاد کے نام رہے

واقف حال تو ہے وہ اپنا منصف جانبدار سہیاس کے ہر انصاف کا لیکن میرے سر الزام رہے

آج کا دن بھی بے مصرف سی سوچوں ہی میں بیت گیاآج کے دن بھی یوں ہی پڑے پھر گھر کے سارے کام رہے

— شبنم شکیل