7 اشعار

ہیں مناظر سب بہم پردہ نظر باقی نہیں

Hain manazir sab baham parda-e-nazar baqi nahin

ہیں مناظر سب بہم پردہ نظر باقی نہیں

«ہیں مناظر سب بہم پردہ نظر باقی نہیں» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

ہیں مناظر سب بہم پردہ نظر باقی نہیںسامنے منزل ہے لیکن رہ گزر باقی نہیں

شاعری جس نے چھڑائے تھے جہاں کے کاروباراب تکلف بر طرف اس میں ہنر باقی نہیں

شہر نو میں کیوں رہے اب یہ شکستہ سا مکاںگر کھڑی دیوار کوئی ہے تو در باقی نہیں

وہ تو جادو کا بنا تھا ہائے ایسا ہی نہ ہولوٹ کر پہنچوں تو دیکھوں اب وہ گھر باقی نہیں

مطمئن تھے خوش تھے اور دنیا میں بھی مصروف تھےہم تو سمجھے تھے کہ اب فن کا سفر باقی نہیں

اب یہ لازم ہے کہ اس دنیا میں جینا سیکھ لوںخوب پر قانع رہوں جب خوب تر باقی نہیں

آپ سونے کا قفس لانے کی زحمت مت کریںہم وہ طائر ہیں کہ جن کے بال و پر باقی نہیں

— شبنم شکیل