7 اشعار

ہم نشینو کچھ نہیں رکھا یہاں پر کچھ نہیں

Hamnasheeno kuch nahin rakha yahan par kuch nahin

ہم نشینو کچھ نہیں رکھا یہاں پر کچھ نہیں

«ہم نشینو کچھ نہیں رکھا یہاں پر کچھ نہیں» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

ہم نشینو کچھ نہیں رکھا یہاں پر کچھ نہیںچھوڑ دو اس کی ہوس دنیا کے اندر کچھ نہیں

در کھلا ہی رہنے دو گھر سے نکلتے وقت تمکچھ اگر ہے تو تمہاری ذات ہے گھر کچھ نہیں

بائیں میں سورج رہے اور چاند دہنے ہاتھ میںدل اگر روشن نہیں تو شعبدہ گر کچھ نہیں

میں سراپا رات بھی ہوں میں سراپا صبح بھیمجھ سے کم تر کچھ نہیں اور مجھ سے برتر کچھ نہیں

اک چمک آنکھوں میں آ جاتی ہے اس کو دیکھ کرورنہ دل تو متفق ہے آپ سے، زر کچھ نہیں

آئنے سے رو کے پوچھا جب کبھی میں کون ہوںآئینہ بولا وہیں فوراً پلٹ کر کچھ نہیں

وقت نے سب دور کر دی ہیں مری خوش فہمیاںیہ مرا مخلص ہے مجھ کو اس سے بڑھ کر کچھ نہیں

— شبنم شکیل