6 اشعار

سب وا ہیں دریچے تو ہوا کیوں نہیں آتی

Sab wa hain dariche to hawa kyon nahin aati

سب وا ہیں دریچے تو ہوا کیوں نہیں آتی

«سب وا ہیں دریچے تو ہوا کیوں نہیں آتی» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

سب وا ہیں دریچے تو ہوا کیوں نہیں آتیچپ کیوں ہیں پرندوں کی صدا کیوں نہیں آتی

گل کھلنے کا موسم ہے تو پھر کیوں نہیں کھلتےخاموش ہیں کیوں پیڑ صبا کیوں نہیں آتی

بے خواب کواڑوں پہ ہوا دیتی ہے دستکسوئے ہوئے لوگوں کو جگا کیوں نہیں دیتی

سنتے ہیں کہ منظر ہے بدلنے کو چمن کاپھر اس کی گواہی کی ندا کیوں نہیں آتی

کیوں ایک سے لگتے ہیں یہاں اب سبھی موسمخوشبو کسی موسم سے جدا کیوں نہیں ہوتی

سونا ہے مجھے اب تو وہی اوڑھ کے شبنمؔمیرے لیے پھولوں کی ردا کیوں نہیں آتی

— شبنم شکیل