7 اشعار

ہر روز راہ تکتی ہیں میرے سنگھار کی

Har roz raah takti hain mere singhaar ki

ہر روز راہ تکتی ہیں میرے سنگھار کی

«ہر روز راہ تکتی ہیں میرے سنگھار کی» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

ہر روز راہ تکتی ہیں میرے سنگھار کیگھر میں کھلی ہوئی ہیں جو کلیاں انار کی

کل ان کے بھی خیال کو میں نے جھٹک دیاحد ہو گئی ہے میرے بھی صبر و قرار کی

ماضی پہ گفتگو سے وہ گھبرا رہے تھے آجمیں نے بھی آج بات وہی بار بار کی

اب پیار کی ادا پہ بھی جھنجھلا رہے ہیں وہکہتے ہیں مجھ کو فکر ہے کچھ کاروبار کی

اکثر تو لوگ پہلی صدا پر ہی بک گئےبولی تو گو لگی تھی بڑے اعتبار کی

زندہ رہی تو نام بھی لوں گی نہ پیار کاسوگند ہے مجھے مرے پروردگار کی

سب کا خیال گھر کی سجاوٹ کی محفلیںمیں نے بھی اب یہ عام روش اختیار کی

— شبنم شکیل