6 اشعار

تنہا کھڑے ہیں ہم سر بازار کیا کریں

Tanha khade hain hum sar-e-bazaar kya karein

تنہا کھڑے ہیں ہم سر بازار کیا کریں

«تنہا کھڑے ہیں ہم سر بازار کیا کریں» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

تنہا کھڑے ہیں ہم سر بازار کیا کریںکوئی نہیں ہے غم کا خریدار کیا کریں

اے کم نصیب دل تو مگر چاہتا ہے کیاسنیاس لے لیں چھوڑ دیں گھر بار کیا کریں

الجھا کے خود ہی زیست کے اک ایک تار کوخود سے سوال کرتے ہیں ہر بار کیا کریں

اک عمر تک جو زیست کا حاصل بنی رہیںپامال ہو رہی ہیں وہ اقدار کیا کریں

ہے پوری کائنات کا چہرہ دھواں دھواںغزلوں میں ذکر یار طرح دار کیا کریں

اس دوہری زندگی میں بھی لاکھوں عذاب ہیںدنیا سے دل ہے برسر پیکار کیا کریں

— شبنم شکیل