5 اشعار

روشنی آنے دو دیوار کو در ہونے دو

Roshni aane do deewar ko dar hone do

روشنی آنے دو دیوار کو در ہونے دو

«روشنی آنے دو دیوار کو در ہونے دو» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

روشنی آنے دو دیوار کو در ہونے دوسحر شب ٹوٹنے دو نور سحر ہونے دو

ایک پتھر پہ نہ ضائع کرو برسات اپنیصدف چشم میں اشکوں کو گہر ہونے دو

دل ہو دریا تو تموج اسے راس آتا ہےروز پیدا مرے دریا میں بھنور ہونے دو

کبھی پندار نے دی بات نہ بننے اب کےگفتگو اس سے بہ انداز دگر ہونے دو

ڈالنے دو مجھے اشیا کی حقیقت پہ نظرنیست ہوتا ہے جو خوابوں کا نگر ہونے دو

— شبنم شکیل