8 اشعار

سامنے اک بے رحم حقیقت ننگی ہو کر ناچتی ہے

Saamne ek be-reham haqeeqat nangi ho kar naachti hai

سامنے اک بے رحم حقیقت ننگی ہو کر ناچتی ہے

«سامنے اک بے رحم حقیقت ننگی ہو کر ناچتی ہے» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

سامنے اک بے رحم حقیقت ننگی ہو کر ناچتی ہےاس کی آنکھوں سے اب میری موت کی خواہش جھانکتی ہے

جسم کا جادو اس دنیا میں سر چڑھ کر جب بولتا ہےروح مری شرمندہ ہو کر اپنا چہرہ ڈھانپتی ہے

اس کی جھولی میں سب کھوٹے سکے ڈالے جائیں گےجانتی ہے یہ اندھی بھکارن پھر بھی دن بھر مانگتی ہے

میرا خون پیا تو اس کو تازہ لہو کی چاٹ لگیاب وہ ناگن اپنی زباں سے اپنا لہو بھی چاٹتی ہے

اب کی بار اے بزدل قسمت کھل کر میرے سامنے آکیوں اک دھچکا روز لگا کر باقی کل پر ٹالتی ہے

ماضی کی تربت سے نکل آتی ہے کسی کی یاد کی لاشمیری سوچ مری دشمن ہے روز مصیبت ڈالتی ہے

صحرا کا بادل دو بوندیں برسا کر اڑ جاتا ہےپیاسی بنجر بانجھ زمیں کچھ اور زیادہ ہانپتی ہے

اب تک سوئی ہوئی تھی وہ آسائش کے گہوارے میںانگڑائی سی لے کر شبنمؔ آج انا کیوں جاگتی ہے

— شبنم شکیل