7 اشعار

ذوق نظر کو اذن نظارہ نہ مل سکا

Zauq-e-nazar ko izn-e-nazzara na mil saka

ذوق نظر کو اذن نظارہ نہ مل سکا

«ذوق نظر کو اذن نظارہ نہ مل سکا» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

ذوق نظر کو اذن نظارہ نہ مل سکاتنہا کبھی وہ انجمن آرا نہ مل سکا

ہم پر تو جلد کھل گیا ساحل کا سب بھرماچھے رہے وہ جن کو کنارہ نہ مل سکا

یک طرفہ رابطہ ہی نبھانا پڑا ہمیںان کی طرف سے کوئی اشارہ نہ مل سکا

تم بھی قصوروار نہیں قصہ مختصرمیرا تمہارے ساتھ ستارہ نہ مل سکا

شہروں کی خاک چھانی کھنگالے ہیں دشت و درلیکن ہمیں سراغ ہمارا نہ مل سکا

میں بھی تھی خود پسند نہیں اس میں شک کوئیاکثر تو پر مزاج تمہارا نہ مل سکا

اے کاش ساتھیوں سے وہ اپنے کبھی کہےشبنمؔ سا کوئی مجھ کو دوبارہ نہ مل سکا

— شبنم شکیل