10 اشعار

ہے تیرے کان زلفِ معنبر لگی ہوئی

Hai tere kaan zulf-e-mambar lagi hui

ہے تیرے کان زلفِ معنبر لگی ہوئی

«ہے تیرے کان زلفِ معنبر لگی ہوئی» شیخ ابراہیم ذوق کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق» میں 15 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

ہے تیرے کان زلفِ معنبر لگی ہوئیرکھے گی یہ نہ بال برابر لگی ہوئی

بیٹھے بھرے ہوئے ہیں خُمِ مے کی طرح ہمپر کیا کریں کہ مہر ہے منہ پر لگی ہوئی

چاٹے بغیر خون کوئی رہتی ہے تیری تیغہے یہ تو اس کو چاٹ ستمگر لگی ہوئی

میت کو غسل دیجو نہ اس خاکسار کیہے تن پہ خاک کوچۂ دلبر لگی ہوئی

عیسیٰ بھی گر ہے پاس تو ممکن نہیں شفاخورشید کو وہ تپ ہے فلک پر لگی ہوئی

نکلے ہے کب کسی سے کہ اُس کی مژہ کی نوکہے پھانس سی کلیجے کے اندر لگی ہوئی

کرتی ہے زیرِ برقع فانوس تانک جھانکپروانہ سے ہے شمع مقرّر لگی ہوئی

بیٹھے ہیں دل کے بیچنے والے ہزار ہاگزرے ہیں اُس کی رہگزر پر لگی ہوئی

یہ چاہتا ہے شوق کہ قاصد بجائے مہرآنکھ اپنی ہو لفافۂ خط پر لگی ہوئی

منہ سے لگا ہوا ہے اگر جامِ مے تو کیاہے دل سے یاد ساقیِ کوثر لگی ہوئی

— شیخ ابراہیم ذوق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں