3 اشعار

تیرے آفت زدہ جن دشتوں میں اڑ جاتے ہیں

Tere aafat-zada jin dashton mein ud jaate hain

تیرے آفت زدہ جن دشتوں میں اڑ جاتے ہیں

«تیرے آفت زدہ جن دشتوں میں اڑ جاتے ہیں» شیخ ابراہیم ذوق کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق» میں 15 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 25 سیکنڈ ہے۔

تیرے آفت زدہ جن دشتوں میں اڑ جاتے ہیںصبر و طاقت کے وہاں پاؤں اکھڑ جاتے ہیں

اتنے بگڑے ہیں وہ مجھ سے کہ اگر نام ان کےخط بھی لکھتا ہوں تو سب حرف بگڑ جاتے ہیں

کیوں نہ لڑوائیں انہیں غیر کہ کرتے ہیں یہیہم نشیں جن کے نصیبے کہیں لڑ جاتے ہیں

— شیخ ابراہیم ذوق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں