ہے تیرے کان زلفِ معنبر لگی ہوئی
کلام: شیخ ابراہیم ذوق
ہے تیرے کان زلفِ معنبر لگی ہوئیرکھے گی یہ نہ بال برابر لگی ہوئی
بیٹھے بھرے ہوئے ہیں خُمِ مے کی طرح ہمپر کیا کریں کہ مہر ہے منہ پر لگی ہوئی
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق
مہمان شاعر: شیخ ابراہیم ذوق
ہے تیرے کان زلفِ معنبر لگی ہوئیرکھے گی یہ نہ بال برابر لگی ہوئی
بیٹھے بھرے ہوئے ہیں خُمِ مے کی طرح ہمپر کیا کریں کہ مہر ہے منہ پر لگی ہوئی
آنکھیں مری تلووں سے وہ مل جائے تو اچھاہے حسرت پابوس نکل جائے تو اچھا
جو چشم کہ بے نم ہو وہ ہو کور تو بہترجو دل کہ ہو بے داغ وہ جل جائے تو اچھا