خوب روکا شکایتوں سے مجھے
کلام: شیخ ابراہیم ذوق
خوب روکا شکایتوں سے مجھےتو نے مارا عنایتوں سے مجھے
واجب القتل اس نے ٹھہرایاآیتوں سے روایتوں سے مجھے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق
مہمان شاعر: شیخ ابراہیم ذوق
خوب روکا شکایتوں سے مجھےتو نے مارا عنایتوں سے مجھے
واجب القتل اس نے ٹھہرایاآیتوں سے روایتوں سے مجھے
تیرے آفت زدہ جن دشتوں میں اڑ جاتے ہیںصبر و طاقت کے وہاں پاؤں اکھڑ جاتے ہیں
اتنے بگڑے ہیں وہ مجھ سے کہ اگر نام ان کےخط بھی لکھتا ہوں تو سب حرف بگڑ جاتے ہیں
ہوئے کیوں اس پہ عاشق ہم ابھی سےلگایا جی کو ناحق غم ابھی سے
دلا ربط اس سے رکھنا کم ابھی سےجتا دیتے ہیں تجھ کو ہم ابھی سے