آخری وقت ہے آخری سانس ہے زندگی کی ہے شام آخری آخری
کلام: شکیل بدیوانی
آخری وقت ہے آخری سانس ہے زندگی کی ہے شام آخری آخریسنگ دل آ بھی جا اب خدا کے لیے لب پہ ہے تیرا نام آخری آخری
کچھ تو آسان ہوگا عدم کا سفر ان سے کہنا تمہیں ڈھونڈھتی ہے نظرنامہ بر تو خدارا نہ اب دیر کر دے دے ان کو پیام آخری آخری