تیرے چہرے کی طرح اور مرے سینے کی طرح
کلام: مصطفی زیدی
تیرے چہرے کی طرح اور مرے سینے کی طرحمیرا ہر شعر دمکتا ہے نگینے کی طرح
پھول جاگے ہیں کہیں تیرے بدن کی ماننداوس مہکی ہے کہیں تیرے پسینے کی طرح
انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)
مہمان شاعر: مصطفی زیدی
تیرے چہرے کی طرح اور مرے سینے کی طرحمیرا ہر شعر دمکتا ہے نگینے کی طرح
پھول جاگے ہیں کہیں تیرے بدن کی ماننداوس مہکی ہے کہیں تیرے پسینے کی طرح
فِگار پاؤں مرے،اشک نارسا میرےکہیں تو مِل مجھے ،اے گمشدہ خدا میرے
میں شمع کُشتہ بھی تھا،صبح کی نوید بھی تھاشکست میں کوئی انداز دیکھتا میرے