گو کہ پیچھے بہت قطار میں تھے
کلام: باصر سلطان کاظمی
گو کہ پیچھے بہت قطار میں تھےکسی گنتی کسی شمار میں تھے
سو بلاؤں سے ہم رہے محفوظاک پر اسرار سے حصار میں تھے
گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)
مہمان شاعر: باصر سلطان کاظمی
گو کہ پیچھے بہت قطار میں تھےکسی گنتی کسی شمار میں تھے
سو بلاؤں سے ہم رہے محفوظاک پر اسرار سے حصار میں تھے