5 اشعار

ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گا

Abhi Hairat Ziyada Aur Ujala Kam Rahe Ga

ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گا

«ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گا» سلیم کوثر کا کلام ہے، جسے واجد علی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «‏⁧‫میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)» میں 24 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گاغزل میں اب کے بھی تیرا حوالہ کم رہے گا

مری وحشت پہ صحرا تنگ ہوتا جا رہا ہےکہا تو تھا یہ آنگن لا محالہ کم رہے گا

بھلا وہ حسن کس کی دسترس میں آ سکا ہےکہ ساری عمر بھی لکھیں مقالہ کم رہے گا

بہت سے دکھ تو ایسے بھی دیے تم نے کہ جن کامداوا ہو نہیں سکتا ازالہ کم رہے گا

وہ چاندی کا ہو سونے کا ہو یا پھر ہو لہو کاسلیمؔ اہل ہوس کو ہر نوالہ کم رہے گا

— سلیم کوثر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں