وہ نہ آئیں گے کبھی دیکھ کے کالے بادل
کلام: قمرجلالوی
وہ نہ آئیں گے کبھی دیکھ کے کالے بادلدو گھڑی کے لیے، اللہ ہٹا لے بادل
آج یوں جُھوم کے کچُھ آگئے کالے بادلسارے میخانوں کے کھلوا گئے تالے بادل
قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے (قمرجلالوی)
مہمان شاعر: قمرجلالوی
وہ نہ آئیں گے کبھی دیکھ کے کالے بادلدو گھڑی کے لیے، اللہ ہٹا لے بادل
آج یوں جُھوم کے کچُھ آگئے کالے بادلسارے میخانوں کے کھلوا گئے تالے بادل
آہ سن کے جلے ہوئے دل کی!کانپ اٹھی لُو چراغ محفل کی
بے کھلا پھول توڑنے والےیہ تو تصویرہے مرے دل کی