اب کے سال پُونم میں
کلام: ظفرگورکھپوری
اب کے سال پُونم میں، جب تو آئے گی ملنےہم نے سوچ رکھا ہے، رات یوں گزاریں گے
دھڑکنیں بچھادیں گے، شوخ تیرے قدموں پہہم نگاہوں سے تیری، آرتی اُتاریں گے
ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)
مہمان شاعر: ظفرگورکھپوری
اب کے سال پُونم میں، جب تو آئے گی ملنےہم نے سوچ رکھا ہے، رات یوں گزاریں گے
دھڑکنیں بچھادیں گے، شوخ تیرے قدموں پہہم نگاہوں سے تیری، آرتی اُتاریں گے
جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نےاس بہانے سے مگر دیکھ لی دنیا ہم نے
سب کا احوال وہی ہے جو ہمارا ہے آجیہ الگ بات کہ شکوہ کیا تنہا ہم نے