مرا قلم مرے جذبات مانگنے والے
کلام: ظفرگورکھپوری
مرا قلم مرے جذبات مانگنے والےمجھے نہ مانگ مرا ہاتھ مانگنے والے
یہ لوگ کیسے اچانک امیر بن بیٹھےیہ سب تھے بھیک مرے ساتھ مانگنے والے
ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)
مہمان شاعر: ظفرگورکھپوری
مرا قلم مرے جذبات مانگنے والےمجھے نہ مانگ مرا ہاتھ مانگنے والے
یہ لوگ کیسے اچانک امیر بن بیٹھےیہ سب تھے بھیک مرے ساتھ مانگنے والے
نہ بھول پائے تمہیں حادثہ ہی ایسا تھانہ بھر سکا کوئی اس کو خلا ہی ایسا تھا
وہ مجھ میں رہ کے مجھے کاٹتا رہا پل پلزباں پہ آ نہ سکا ماجرا ہی ایسا تھا