پکارے جا رہے ہو اجنبی سے چاہتے کیا ہو
کلام: ظفرگورکھپوری
پکارے جا رہے ہو اجنبی سے چاہتے کیا ہوخود اپنے شور میں گم آدمی سے چاہتے کیا ہو
یہ آنکھوں میں جو کچھ حیرت ہے کیا وہ بھی تمہیں دے دیںبنا کر بت ہمیں اب خامشی سے چاہتے کیا ہو
ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)
مہمان شاعر: ظفرگورکھپوری
پکارے جا رہے ہو اجنبی سے چاہتے کیا ہوخود اپنے شور میں گم آدمی سے چاہتے کیا ہو
یہ آنکھوں میں جو کچھ حیرت ہے کیا وہ بھی تمہیں دے دیںبنا کر بت ہمیں اب خامشی سے چاہتے کیا ہو