تھی الگ راہ مگر ترک محبت نہیں کی
کلام: ظفرگورکھپوری
تھی الگ راہ مگر ترک محبت نہیں کیاس نے بھی سوچا بہت ہم نے بھی عجلت نہیں کی
تو نے جو درد کی دولت ہمیں دی تھی اس میںکچھ اضافہ ہی کیا ہم نے خیانت نہیں کی
ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)
مہمان شاعر: ظفرگورکھپوری
تھی الگ راہ مگر ترک محبت نہیں کیاس نے بھی سوچا بہت ہم نے بھی عجلت نہیں کی
تو نے جو درد کی دولت ہمیں دی تھی اس میںکچھ اضافہ ہی کیا ہم نے خیانت نہیں کی
میری اک چھوٹی سی کوشش تجھ کو پانے کے لیےبن گئی ہے مسئلہ سارے زمانے کے لیے
ریت میری عمر میں بچہ نرالے میرے کھیلمیں نے دیواریں اٹھائی ہیں گرانے کے لیے