7 اشعار

دنیا میں کچھ اپنے ہیں کچھ بیگانے الفاظ

Dunya mein kuchh apne hi hain kuchh begaane alfaaz

دنیا میں کچھ اپنے ہیں کچھ بیگانے الفاظ

«دنیا میں کچھ اپنے ہیں کچھ بیگانے الفاظ» کیف احمد صدیقی کا کلام ہے، جسے حسین بلوچ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

دنیا میں کچھ اپنے ہیں کچھ بیگانے الفاظکس کو اتنی فرصت ہے جو پہچانے الفاظ

ریگ علامت میں بھی جل کر پا نہ سکے مفہومصحرائے معنی میں بھی بھٹکے انجانے الفاظ

دشت ازل سے دشت ابد تک چھان چکا میں خاکاور کہاں لے جائیں گے اب بھٹکانے الفاظ

بے معنی ماحول میں رہ کر ذہن ہوا ماؤفمجھ کو بھی پاگل کر دیں گے دیوانے الفاظ

اکثر آدھی رات میں لے کر کچھ پتھریلے خوابشیشۂ ذہن سے آ جاتے ہیں ٹکرانے الفاظ

شعر و سخن کے مے خانے کا میں ہوں اک مے خوارمیرے لئے بادہ ہے تخیل پیمانے الفاظ

کیفؔ کبھی اک شعر میں ڈھلنا ہوتا ہے دشواراور کبھی خود بن جاتے ہیں افسانے الفاظ

— کیف احمد صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں