7 اشعار

جو صدا گونجتی تھی کانوں میں

Jo sada goonjti thi kaanon mein

جو صدا گونجتی تھی کانوں میں

«جو صدا گونجتی تھی کانوں میں» کیف احمد صدیقی کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

جو صدا گونجتی تھی کانوں میںمنجمد ہو گئی زبانوں میں

لمحہ لمحہ پگھل رہی ہے حیاتخواب کی یخ زدہ چٹانوں میں

کتنے جذبات ہو گئے آہنان مشینوں کے کارخانوں میں

شہد کا گھونٹ بن گیا ہوگاذائقہ زہر کا زبانوں میں

خامشی بھوت بن کے رہتی ہےآج انسان کے مکانوں میں

اک حسیں پھول بن کے گرتی ہےبرق بھی میرے آشیانوں میں

فن کو نیلام کر دیا آخرکیفؔ لوگوں نے چند آنوں میں

— کیف احمد صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں