7 اشعار

ہم آج کچھ حسین سرابوں میں کھو گئے

Hum aaj kuchh haseen saraabon mein kho gaye

ہم آج کچھ حسین سرابوں میں کھو گئے

«ہم آج کچھ حسین سرابوں میں کھو گئے» کیف احمد صدیقی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

ہم آج کچھ حسین سرابوں میں کھو گئےآنکھیں کھلیں تو جاگتے خوابوں میں کھو گئے

ہم صفحۂ حیات سے جب بے نشاں ہوئےلفظوں کی روح بن کے کتابوں میں کھو گئے

آئینۂ بہار کے کچھ عکس مضمحلخوشبو کا رنگ پا کے گلابوں میں کھو گئے

دراصل برشگال کے تم آفتاب تھےبرسات جب ہوئی تو سحابوں میں کھو گئے

نکلے تھے جو بھی آج تلاش ثواب میںوہ زندگی کے سخت عذابوں میں کھو گئے

دل کو تھی ایک شہر تمنا کی جستجولیکن ہم آرزو کے خرابوں میں کھو گئے

جب مسئلہ حیات کا کچھ حل نہ ہو سکاہم کیفؔ فلسفے کی کتابوں میں کھو گئے

— کیف احمد صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں