ہم آج کچھ حسین سرابوں میں کھو گئے
کلام: کیف احمد صدیقی
ہم آج کچھ حسین سرابوں میں کھو گئےآنکھیں کھلیں تو جاگتے خوابوں میں کھو گئے
ہم صفحۂ حیات سے جب بے نشاں ہوئےلفظوں کی روح بن کے کتابوں میں کھو گئے
تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی
مہمان شاعر: کیف احمد صدیقی
ہم آج کچھ حسین سرابوں میں کھو گئےآنکھیں کھلیں تو جاگتے خوابوں میں کھو گئے
ہم صفحۂ حیات سے جب بے نشاں ہوئےلفظوں کی روح بن کے کتابوں میں کھو گئے
ہم ایک ڈھلتی ہوئی دھوپ کے تعاقب میںہیں تیز گام سائے سائے جاتے ہیں
چمن میں شدت درد نمود سے غنچےتڑپ رہے ہیں مگر مسکرائے جاتے ہیں