6 اشعار

سورج آنکھیں کھول رہا ہے سوکھے ہوئے درختوں میں

Suraj aankhein khol raha hai sookhe hue drakhton mein

سورج آنکھیں کھول رہا ہے سوکھے ہوئے درختوں میں

«سورج آنکھیں کھول رہا ہے سوکھے ہوئے درختوں میں» کیف احمد صدیقی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

سورج آنکھیں کھول رہا ہے سوکھے ہوئے درختوں میںسائے راکھ بنے جاتے ہیں جیتے ہوئے درختوں میں

آج کچھ ایسے شعلے بھڑکے بارش کے ہر قطرے سےدھوپ پناہیں مانگ رہی ہے بھیگے ہوئے درختوں میں

خاموشی بھی خوف زدہ ہے آسیبی آوازوں سےسناٹے بھی کانپ رہے ہیں سہمے ہوئے درختوں میں

تنہائی کی دلہن اپنی مانگ سجائے بیٹھی ہےویرانی آباد ہوئی ہے اجڑے ہوئے درختوں میں

آج تو سارے باغ میں خواب مرگ کا نشہ طاری ہےلیکن کوئی جاگ رہا ہے سوئے ہوئے درختوں میں

کون مصیبت کے عام میں ساتھ کسی کا دیتا ہےچند پرندے چیخ رہے ہیں گرتے ہوئے درختوں میں

— کیف احمد صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں