جو صدا گونجتی تھی کانوں میں
کلام: کیف احمد صدیقی
جو صدا گونجتی تھی کانوں میںمنجمد ہو گئی زبانوں میں
لمحہ لمحہ پگھل رہی ہے حیاتخواب کی یخ زدہ چٹانوں میں
تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی
مہمان شاعر: کیف احمد صدیقی
جو صدا گونجتی تھی کانوں میںمنجمد ہو گئی زبانوں میں
لمحہ لمحہ پگھل رہی ہے حیاتخواب کی یخ زدہ چٹانوں میں
چاند پہلے بھی خوب صورت تھاآج بھی چاند خوب صورت ہے
لوگ کہتے ہیں چاند کے اندرہر طرف ہے مہیب ویرانی