9 اشعار

سارے دن دشت تجسس میں بھٹک کر سو گیا

Saare din dasht-e-tajassus mein bhatak kar so gaya

سارے دن دشت تجسس میں بھٹک کر سو گیا

«سارے دن دشت تجسس میں بھٹک کر سو گیا» کیف احمد صدیقی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

سارے دن دشت تجسس میں بھٹک کر سو گیاشام کی آغوش میں سورج بھی تھک کر سو گیا

آخر شب میں بھی کھا کر خواب آور گولیاںچند لمحے نشۂ غم سے بہک کر سو گیا

یہ سکوت شام یہ ہنگامۂ ذہن بشرروح ہے بے دار لیکن جسم تھک کر سو گیا

آخر اس دور پر آشوب کا ہر آدمیخواب مستقبل کے جنگل میں بھٹک کر سو گیا

چند دن گلشن میں نغمات مسرت چھیڑ کرشاخ غم پر روح کا پنچھی چہک کر سو گیا

آخرش سارے چمن کو دے کے حسن زندگیموت کے بستر پہ ہر غنچہ مہک کر سو گیا

زندگی بھر اب اندھیری رات میں ہے جاگنااب تو قسمت کا ستارہ بھی چمک کر سو گیا

پیکر الفاظ میں اک آگ دہکاتا ہواکاغذی صحرا میں اک شعلہ بھڑک کر سو گیا

کیفؔ یوں آغوش فن میں ذہن کو نیند آ گئیجیسے ماں کی گود میں بچہ سسک کر سو گیا

— کیف احمد صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں