سرد جذبے بجھے بجھے چہرے
کلام: کیف احمد صدیقی
سرد جذبے بجھے بجھے چہرےجسم زندہ ہیں مر گئے چہرے
آج کے دور کی علامت ہیںفلسفی ذہن سوچتے چہرے
تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی
مہمان شاعر: کیف احمد صدیقی
سرد جذبے بجھے بجھے چہرےجسم زندہ ہیں مر گئے چہرے
آج کے دور کی علامت ہیںفلسفی ذہن سوچتے چہرے