سورج آنکھیں کھول رہا ہے سوکھے ہوئے درختوں میں
کلام: کیف احمد صدیقی
سورج آنکھیں کھول رہا ہے سوکھے ہوئے درختوں میںسائے راکھ بنے جاتے ہیں جیتے ہوئے درختوں میں
آج کچھ ایسے شعلے بھڑکے بارش کے ہر قطرے سےدھوپ پناہیں مانگ رہی ہے بھیگے ہوئے درختوں میں