بیاں جب کلیمؔ اپنی حالت کرے ہے
کلام: کلیم عاجز
بیاں جب کلیمؔ اپنی حالت کرے ہےغزل کیا پڑھے ہے قیامت کرے ہے
بھلا آدمی تھا پہ نادان نکلاسنا ہے کسی سے محبت کرے ہے
شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)
مہمان شاعر: کلیم عاجز
بیاں جب کلیمؔ اپنی حالت کرے ہےغزل کیا پڑھے ہے قیامت کرے ہے
بھلا آدمی تھا پہ نادان نکلاسنا ہے کسی سے محبت کرے ہے
تجھے کلیمؔ کوئی کیسے خوش کلام کہےجو دن کو رات بتائے سحر کو شام کہے
پئے بغیر کہو تو یہ تشنہ کام کہےوہ راز مے جو صراحی کہے نہ جام کہے