7 اشعار

عجیب خواہش ہے شہر والوں سے چھپ چھپا کر کتاب لکھوں

Ajeeb khwahish hai shahar walon se chhup chhipa kar kitaab likhoon

عجیب خواہش ہے شہر والوں سے چھپ چھپا کر کتاب لکھوں

«عجیب خواہش ہے شہر والوں سے چھپ چھپا کر کتاب لکھوں» نوشی گیلانی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)» میں 25 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 32 سیکنڈ ہے۔

عجیب خواہش ہے شہر والوں سے چھپ چھپا کر کتاب لکھوںتمہارے نام اپنی زندگی کی کتاب کا انتساب لکھوں

وہ لمحہ کتنا عجیب تھا جب ہماری آنکھیں گلے ملی تھیںمیں کس طرح اب محبتوں کی شکستگی کے عذاب لکھوں

تمہی نے میرے اجاڑ رستوں پہ خواہشوں کے دیے جلائےتمہی نے چاہا تھا خشک ہونٹوں سے چاہتوں کے گلاب لکھوں

کبھی وہ دن تھے کہ نیند آنکھوں کی سرحدوں سے پرے پرے تھیمگر میں اب جب بھی سونا چاہوں تمہاری یادوں کے خواب لکھوں

میں تنہا لڑکی دیار شب میں جلاؤں سچ کے دیئے کہاں تکسیاہ کاروں کی سلطنت میں میں کس طرح آفتاب لکھوں

قیادتوں کے جنوں میں جن کے قدم لہو سے رنگے ہوئے ہیںیہ میرے بس میں نہیں ہے لوگو کہ ان کو عزت مآب لکھوں

یہی بہت ہے کہ ان لبوں کو صدا سے محروم کر کے رکھ دوںمگر یہ کیسی مصالحت ہے سمندروں کو سراب لکھوں

— نوشی گیلانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں