9 اشعار

دل کی منزل اس طرف ہے گھر کا رستہ اس طرف

Dil ki manzil us taraf hai ghar ka raasta is taraf

دل کی منزل اس طرف ہے گھر کا رستہ اس طرف

«دل کی منزل اس طرف ہے گھر کا رستہ اس طرف» نوشی گیلانی کا کلام ہے، جسے ابو لقمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)» میں 25 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 22 سیکنڈ ہے۔

دل کی منزل اس طرف ہے گھر کا رستہ اس طرفایک چہرہ اس طرف ہے ایک چہرہ اس طرف

روشنی کے استعارے اس کنارے رہ گئےاب تو شب میں کوئی جگنو ہے نا تارا اس طرف

تم ہوا ان کھڑکیوں سے صرف اتنا دیکھنااس نے کوئی خط کسی کے نام لکھا اس طرف

یہ محبت بھی عجب تقسیم کے موسم میں ہےسارا جذبہ اس طرف ہے صرف لہجہ اس طرف

ماں نے کوئی خوف ایسا رکھ دیا دل میں مرےسچ کبھی میں بول ہی پائی نہ پورا اس طرف

ایک ہلکی سی چبھن احساس کو گھیرے رہیگفتگو میں جب تمہارا ذکر آیا اس طرف

صرف آنکھیں کانچ کی باقی بدن پتھر کا ہےلڑکیوں نے کس طرح روپ دھارا اس طرف

اے ہوا اے میرے دل کے شہر سے آتی ہواتجھ کو کیا پیغام دے کر اس نے بھیجا اس طرف

کس طرح کے لوگ ہیں یہ کچھ پتا چلتا نہیںکون کتنا اس طرف ہے کون کتنا اس طرف

— نوشی گیلانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں