عجیب خواہش ہے شہر والوں سے چھپ چھپا کر کتاب لکھوں
عجیب خواہش ہے شہر والوں سے چھپ چھپا کر کتاب لکھوںتمہارے نام اپنی زندگی کی کتاب کا انتساب لکھوں
وہ لمحہ کتنا عجیب تھا جب ہماری آنکھیں گلے ملی تھیںمیں کس طرح اب محبتوں کی شکستگی کے عذاب لکھوں
اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)
مہمان شاعر: نوشی گیلانی
عجیب خواہش ہے شہر والوں سے چھپ چھپا کر کتاب لکھوںتمہارے نام اپنی زندگی کی کتاب کا انتساب لکھوں
وہ لمحہ کتنا عجیب تھا جب ہماری آنکھیں گلے ملی تھیںمیں کس طرح اب محبتوں کی شکستگی کے عذاب لکھوں
بچھڑتے لمحوں میںاس نے مجھ سے کہا تھا دیکھو
''ہماری راہیں جدا جدا ہیںمگر ہمیں ایک دوسرے کا خیال رکھنا ہے زندگی بھر
دل تھا کہ خوش خیال تجھے دیکھ کر ہوایہ شہر بے مثال تجھے دیکھ کر ہوا
اپنے خلاف شہر کے اندھے ہجوم میںدل کو بہت ملال تجھے دیکھ کر ہوا
بچھڑنے والے چلے جو ہو تو بتا کے جاؤ....کہ کتنی شامیں اداس آنکھوں میں کاٹنی ہیں...؟؟
کہ کتنی صبحیں اکیلے پن میں گزارنی ہیں...؟؟بتا کے جاؤ....