18 اشعار

تمام دکھ ہے

Tamaam dukh hai

تمام دکھ ہے

«تمام دکھ ہے» نوشی گیلانی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)» میں 25 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

تمام دکھ ہےہمیں خبر ہے

تمام دکھ ہےیہ زندگی کو جو آسمانوں کی وسعتوں سے

ہزار صدیوں سے مل رہا ہےپیام دکھ ہے

جو کار زار زوال ہستی کودھوپ چھاؤں کی آہٹوں سے چلا رہا ہے

نظام دکھ ہےسحر تو اک مختصر سا غم ہے

طویل دن کی حویلیوں کےجو راستوں میں ٹھہر گئی ہے

وہ شام دکھ ہےیہ شام دکھ ہے

کہ اس کی شہ پر کئی دنوں سےمسافران ابد کا ایسے فراق آثار راستوں پر

سفر تو خیر ایک المیہ ہےقیام دکھ ہے

ہمیں خبر ہے تمام دکھ ہےیہ آس دکھ ہے نراس دکھ ہے

اداسیوں کا لباس دکھ ہےیہ تشنگی جو عذاب بن کر ٹھہر گئی ہے

بدن کے بوسیدہ ساحلوں پرتو اس کا عہد دوام دکھ ہے

یہ شور کرتی ہوا کا سارا خرام دکھ ہےہمیں خبر ہے

تمام دکھ ہےیہ تم محبت نباہتے ہو

تو اس محبت کا نام دکھ ہےیہ وصل موسم جو اک مسلسل مغالطہ ہے

تو اس رفاقت کا نام دکھ ہےاور ایسی وحشت نما فضا میں

خموش رہنا بھی اک سزا ہےمگر کسی سے کلام دکھ ہے

ہمیں خبر ہےتمام دکھ ہے۔

— نوشی گیلانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں