دل کی منزل اس طرف ہے گھر کا رستہ اس طرف
کلام: نوشی گیلانی
دل کی منزل اس طرف ہے گھر کا رستہ اس طرفایک چہرہ اس طرف ہے ایک چہرہ اس طرف
روشنی کے استعارے اس کنارے رہ گئےاب تو شب میں کوئی جگنو ہے نا تارا اس طرف
اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)
مہمان شاعر: نوشی گیلانی
دل کی منزل اس طرف ہے گھر کا رستہ اس طرفایک چہرہ اس طرف ہے ایک چہرہ اس طرف
روشنی کے استعارے اس کنارے رہ گئےاب تو شب میں کوئی جگنو ہے نا تارا اس طرف
عشق کرو تو یہ بھی سوچو عرض سوال سے پہلےہجر کی پوری رات آتی ہے صبح وصال سے پہلے
دل کا کیا ہے دل نے کتنے منظر دیکھے لیکنآنکھیں پاگل ہو جاتی ہیں ایک خیال سے پہلے