6 اشعار

ہر جانب ویرانی بھی ہو سکتی ہے

Har jaanib veerani bhi ho sakti hai

ہر جانب ویرانی بھی ہو سکتی ہے

«ہر جانب ویرانی بھی ہو سکتی ہے» نوشی گیلانی کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)» میں 25 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

ہر جانب ویرانی بھی ہو سکتی ہےصبح کی رنگت دھانی بھی ہو سکتی ہے

جب کشتی ڈالی تھی کس نے سوچا تھادریا میں طغیانی بھی ہو سکتی ہے

نئے سفر کے نئے عذاب اور نئے گلابصورت حال پرانی بھی ہو سکتی ہے

ہر پل جو دل کو دہلائے رکھتی ہےکچھ بھی نہیں حیرانی بھی ہو سکتی ہے

سفر ارادہ کر تو لیا پر رستوں میںرات کوئی طوفانی بھی ہو سکتی ہے

اس کو میرے نام سے نسبت ہے لیکنبات یہ آنی جانی بھی ہو سکتی ہے

— نوشی گیلانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں