6 اشعار

کہیں کرتے نہیں اظہار، چپ ہیں

Kahin karte nahin izhaar, chup hain

کہیں کرتے نہیں اظہار، چپ ہیں

«کہیں کرتے نہیں اظہار، چپ ہیں» نوشی گیلانی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)» میں 25 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

کہیں کرتے نہیں اظہار، چپ ہیںہمیں تو حکم ہے سرکار، چپ ہیں

کہانی کچھ بتانا چاہتی ہےمگر اس کے سبھی کردار، چپ ہیں

بہت ہے بارش سنگ ملامتمگر ہم صورت کہسار، چپ ہیں

ابھی تک ہے بہت محفوظ قاتلکہ مقتل کے درودیوار، چپ ہیں

پتہ رہزن کا خلقت پوچھتی ہےمگر بستی کے پہریدار، چپ ہیں

وہی موسم، وہی زنجیر شب ہےمگر یہ لوگ کیوں اس بار چپ ہیں

— نوشی گیلانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں