بہت تاریک صحرا ہو گیا ہے
کلام: نوشی گیلانی
بہت تاریک صحرا ہو گیا ہےہوا کا شور گہرا ہو گیا ہے
کسی کے لمس کا یہ معجزہ ہےبدن سارا سنہرا ہو گیا ہے
اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)
مہمان شاعر: نوشی گیلانی
بہت تاریک صحرا ہو گیا ہےہوا کا شور گہرا ہو گیا ہے
کسی کے لمس کا یہ معجزہ ہےبدن سارا سنہرا ہو گیا ہے
ہر جانب ویرانی بھی ہو سکتی ہےصبح کی رنگت دھانی بھی ہو سکتی ہے
جب کشتی ڈالی تھی کس نے سوچا تھادریا میں طغیانی بھی ہو سکتی ہے
اے میری روح میں سلے ہوئے شخصتم سے دوری میرے ذہن کو بہت بے چین کرتی ہے
میں نہیں جانتا مجھ سے دوریتمہارے پاس میرے لئے وقت کی قلت ہے