7 اشعار

ہوا کو لکھنا جو آگیا ہے

Hawa ko likhna jo aa gaya hai

ہوا کو لکھنا جو آگیا ہے

«ہوا کو لکھنا جو آگیا ہے» نوشی گیلانی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)» میں 25 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 36 سیکنڈ ہے۔

ہوا کو لکھنا جو آ گیا ہےاب اس کی مرضی

کہ وہ خزاں کو بہار لکھ دےبہار کو انتظار لکھ دے

سفر کی خواہش کو واہموں کے عذاب سے ہمکنار لکھ دےوفا کے رستوں پہ چلنے والوں

کی قسمتوں میں غبار لکھ دےہوا کو لکھنا جو آ گیا ہے

ہوا کی مرضی کہ وصل موسم میںہجر کو حصہ دار لکھ دے

محبتوں میں گزرنے والی رُتوں کو ناپائیدار لکھ دےشجر کو کم سایہ دار لکھ دے

ہوا کو لکھنا سکھانے والوںہوا کو لکھنا جو آگیا ہے ۔۔۔!!!

— نوشی گیلانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں