10 اشعار

ورثہ

Warsa

ورثہ

«ورثہ» نوشی گیلانی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)» میں 25 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

بیٹیاں بھی تو ماؤں جیسی ہوتی ہیںضبط کے زرد آنچل میں اپنے

سارے درد چھپا لیتی ہیںروتے روتے ہنس پڑتی ہیں

ہنستے ہنستے دل ہی دل میں رو لیتی ہیںخوشی کی خواہش کرتے کرتے

خواب اور خاک میں اٹ جاتی ہیںسو حصوں میں بٹ جاتی ہیں

گھر کے دروازے پر بیٹھیامیدوں کے ریشم بنتے ساری عمر گنوا

دیتی ہیںمیں جو گئے دنوں میں

ماں کی خوش فہمی پہ ہنس دیتی تھیاب خود بھی تو

عمر کی گرتی دیواروں سے ٹیک لگائےفصل خوشی کی بوتی ہوں

اور خوش فہمی کاٹ رہی ہوںجانے کیسی رسم ہے یہ بھی

ماں کیوں بیٹی کو ورثے میںاپنا مقدر دے دیتی ہے

— نوشی گیلانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں