5 اشعار

ہمارے درمیاں عہد شب مہتاب زندہ ہے

Humare darmiyaan ahd-e-shab-e-mahtab zinda hai

ہمارے درمیاں عہد شب مہتاب زندہ ہے

«ہمارے درمیاں عہد شب مہتاب زندہ ہے» نوشی گیلانی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)» میں 25 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

ہمارے درمیاں عہد شب مہتاب زندہ ہےہوا چپکے سے کہتی ہے ابھی اک خواب زندہ ہے

یہ کس کی نرم خوشبو ہے مری شب کی حویلی میںیہ کیسا رقص مستی اے دل بے تاب زندہ ہے

کہاں وہ سانولی شامیں کہاں وہ ریشمی باتیںمگر اک لمس حیراں کا ابھی زرناب زندہ ہے

ابھی تک پانیوں میں سرمئی سائے اترتے ہیںابھی تک دھڑکنوں میں درد کی مضراب زندہ ہے

صراط عشق ہے اور ہجر کی تنہا مسافت ہےوہی ہے تشنگی پھر بھی فریب آب زندہ ہے

— نوشی گیلانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں