8 اشعار

ہمیں کس ہاتھ کی محبوب ریکھاؤں میں رہنا تھا

Humein kis haath ki mehboob rekhaon mein rehna tha

ہمیں کس ہاتھ کی محبوب ریکھاؤں میں رہنا تھا

«ہمیں کس ہاتھ کی محبوب ریکھاؤں میں رہنا تھا» نوشی گیلانی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)» میں 25 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

ہمیں کس ہاتھ کی محبوب ریکھاؤں میں رہنا تھاکس دل میں اترنا تھا

چمکنا تھا کن آنکھوں میںکہاں پر پھول بننا تھا

تو کب خوشبو کی صورت کوئے جاناں سے گزرنا تھاسمجھ میں کچھ نہیں آتا

ہمیں کس قریۂ آب و ہوا کے سنگ رہنا تھاکہاں شامیں گزرنی تھیں

کہاں مہتاب راتوں میں کسی کو یاد کرنا تھاکسی کو بھول جانا تھا

کہاں پر صبح کا آغاز کرنا تھا کہاں سورج نکلنا تھاسفر کے دشت میں تنہا تھکے ہارے مسافر کو

کہاں خیمہ لگانا تھاکہاں دریا میں کشتی ڈالنا تھی اور کس ساحل اترنا تھا

سمجھ میں کچھ نہیں آتاہمیں کس قریۂ آب و ہوا کے سنگ رہنا تھا

— نوشی گیلانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں