5 اشعار

یہ نام ممکن نہیں رہے گا مقام ممکن نہیں رہے گا

Yeh naam mumkin nahin rahega maqaam mumkin nahin rahega

یہ نام ممکن نہیں رہے گا مقام ممکن نہیں رہے گا

«یہ نام ممکن نہیں رہے گا مقام ممکن نہیں رہے گا» نوشی گیلانی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)» میں 25 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

یہ نام ممکن نہیں رہے گا مقام ممکن نہیں رہے گاغرور لہجے میں آ گیا تو کلام ممکن نہیں رہے گا

یہ برف موسم جو شہر جاں میں کچھ اور لمحے ٹھہر گیا تولہو کا دل کی کسی گلی میں قیام ممکن نہیں رہے گا

تم اپنی سانسوں سے میری سانسیں الگ تو کرنے لگے ہو لیکنجو کام آساں سمجھ رہے ہو وہ کام ممکن نہیں رہے گا

وفا کا کاغذ تو بھیگ جائے گا بد گمانی کی بارشوں میںخطوں کی باتیں تو خواب ہوں گی پیام ممکن نہیں رہے گا

یہ ہم محبت میں لا تعلق سے ہو رہے ہیں تو دیکھ لینادعائیں تو خیر کون دے گا سلام ممکن نہیں رہے گا

— نوشی گیلانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں