5 اشعار

کوئی مجھ کو مرا بھر پور سراپا لا دے

Koi mujh ko mera bharpoor saraapa la de

کوئی مجھ کو مرا بھر پور سراپا لا دے

«کوئی مجھ کو مرا بھر پور سراپا لا دے» نوشی گیلانی کا کلام ہے، جسے شاہین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)» میں 25 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

کوئی مجھ کو مرا بھر پور سراپا لا دےمرے بازو ، مری آنکھیں، مرا چہرہ لا دے

ایسا دریا جو کسی اور سمندر میں گرےاس سے بہتر ہے کہ مجھ کو مرا صحرا لا دے

کچھ نہیں چاہئے تجھ سے اے مری عمرِ رواںمرا بچپن، مرے جگنو، مری گڑیا لا دے

جس کی آنکھیں مجھے اندر سے بھی پڑھ سکتی ہوںکوئی چہرہ تو مرے شہر میں ایسا لا دے

کشتئ جاں تو بھنور میں ہے کئی برسوں سےاے خدا اب تو ڈبو دے یا کنارا لا دے

— نوشی گیلانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں