کوئی مجھ کو مرا بھر پور سراپا لا دے
کلام: نوشی گیلانی
کوئی مجھ کو مرا بھر پور سراپا لا دےمرے بازو ، مری آنکھیں، مرا چہرہ لا دے
ایسا دریا جو کسی اور سمندر میں گرےاس سے بہتر ہے کہ مجھ کو مرا صحرا لا دے
اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)
مہمان شاعر: نوشی گیلانی
کوئی مجھ کو مرا بھر پور سراپا لا دےمرے بازو ، مری آنکھیں، مرا چہرہ لا دے
ایسا دریا جو کسی اور سمندر میں گرےاس سے بہتر ہے کہ مجھ کو مرا صحرا لا دے