تتلیاں جگنو سبھی ہوں گے مگر دیکھے گا کون
کلام: نوشی گیلانی
تتلیاں جگنو سبھی ہوں گے مگر دیکھے گا کونہم سجا بھی لیں اگر دیوار و در دیکھے گا کون
اب تو ہم ہیں جاگنے والے تری خاطر یہاںہم نہ ہوں گے تو ترے شام و سحر دیکھے گا کون
اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)
مہمان شاعر: نوشی گیلانی
تتلیاں جگنو سبھی ہوں گے مگر دیکھے گا کونہم سجا بھی لیں اگر دیوار و در دیکھے گا کون
اب تو ہم ہیں جاگنے والے تری خاطر یہاںہم نہ ہوں گے تو ترے شام و سحر دیکھے گا کون
بند ہوتی کتابوں میں اڑتی ہوئی تتلیاں ڈال دیںکس کی رسموں کی جلتی ہوئی آگ میں لڑکیاں ڈال دیں
خوف کیسا ہے یہ نام اس کا کہیں زیر لب بھی نہیںجس نے ہاتھوں میں میرے ہرے کانچ کی چوڑیاں ڈال دیں