7 اشعار

آنکھوں میں جم گئے ہیں نشاں، کیسی بھاپ کے!

Aankhoñ mein jam gaye hain nishaan, kaisi bhaap ke!

آنکھوں میں جم گئے ہیں نشاں، کیسی بھاپ کے!

«آنکھوں میں جم گئے ہیں نشاں، کیسی بھاپ کے!» سعید شارق کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

آنکھوں میں جم گئے ہیں نشاں، کیسی بھاپ کے!نابینا ہو گیا ہوں تری آگ تاپ کے

دستک، سکوت، چیخ، صدا، شور، بازگشتکیا کیا ہیں نام اب ترے قدموں کی چاپ کے!

ہوتا نہیں تعیّنِ جاگیرِ ہست و نیستہم خاک ہو گئے یہ زمیں ماپ ماپ کے

اب کاٹنے کو دوڑ رہا ہے سگِ فناآ تو گیا ہوں وقت کی دیوار ٹاپ کے

یُوں بھی دُھواں ہے تجربہ گاہِ وجود میںکرتا ہوں تجربے غم و دِل کے ملاپ کے

دُنیا تھی مُنہمک کَفَن و دفن میں، اُدھربیٹے میں سانس لینے لگے زخم باپ کے

رہتا تھا دِل کو تنگیء ملبُوس کا گِلہسِلوا دیے ہیں کپڑے اُداسی کے ناپ کے

— سعید شارق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں